ایران نے امریکی پائلٹ کو گرفتار کر لیا؟ ایف-35 واقعے کے بعد بڑے دعوے

امریکی طیارہ گرانے اور پائلٹ گرفتاری کا دعویٰ، امریکا نے تردید کی، حقیقت ابھی تک غیر واضح

3 اپریل 2026 کو مشرق وسطیٰ کی جنگ ایک نئے اور بہت اہم موڑ پر پہنچ گئی، جب ایرانی ریاستی میڈیا اور آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایک امریکی لڑاکا طیارہ تباہ کر دیا اور اس کے پائلٹ کو گرفتار کر لیا۔

کیا دعوے کیے گئے؟

ایرانی ریاستی میڈیا اور حکومتی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ایرانی فضائی دفاع نے ایران کی سرزمین پر ایک امریکی لڑاکا طیارہ مار گرایا اور سیکورٹی فورسز نے اس کے پائلٹ کو گرفتار کر لیا۔ ایران نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پائلٹ کو بچانے کے لیے امریکا نے بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں اور سی-130 ہرکولیس طیارے کے ذریعے ریسکیو آپریشن چلایا، جو ناکام رہا۔

ایرانی ریاستی ٹیلی ویژن نے اعلان کیا کہ جو بھی امریکی پائلٹ کو زندہ پکڑ کر حوالے کرے گا، اسے بڑا انعام دیا جائے گا۔ کوہگیلویہ اور بویر احمد صوبے کی پولیس نے اس انعام کا باضابطہ اعلان کیا۔

طیارہ ایف-35 تھا یا ایف-15؟

یہاں اہم بات یہ ہے کہ خود ایرانی ذرائع میں تضاد موجود ہے۔ ایرانی میڈیا کے کچھ چینل اب اس مار گرائے گئے طیارے کو ایف-35 کے بجائے ایف-15ای بتا رہے ہیں۔ ملبے کی تصاویر میں ایک ٹیل فِن نظر آتی ہے جو ایف-15ای سے مطابقت رکھتی ہے، اور اس پر موجود نشان برطانیہ کے RAF لیکن ہیتھ بیس کے 494ویں فائٹر اسکواڈرن کی شناخت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

آئی آر جی سی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایک نئے جدید فضائی دفاعی نظام کے ذریعے دوسرا امریکی ایف-35 بھی مار گرایا۔ تاہم پینٹاگون نے آئی آر جی سی کے کسی بھی دعوے کی تصدیق نہیں کی اور آزاد تجزیہ کاروں نے کہا کہ ملبے کی تصاویر سے حتمی شناخت ممکن نہیں ہے۔

امریکا کا موقف

امریکی حکام نے نہ کسی پائلٹ کی گرفتاری کی تصدیق کی، نہ کسی طیارے کے ایران کے اندر گر کر تباہ ہونے کی، اور نہ ہی اس نوعیت کے کسی ناکام ریسکیو آپریشن کی۔ پہلے کے واقعات میں ایک ایف-35 کو نقصان پہنچا تھا، لیکن وہ ہنگامی لینڈنگ کر کے امریکی اڈے پر واپس آ گیا تھا اور پائلٹ مستحکم حالت میں تھا۔

ریسکیو آپریشن کی تصاویر

دستیاب ویڈیوز اور تصاویر میں ایم ایچ-60 جی امریکی کمبیٹ ریسکیو ہیلی کاپٹر اور ایچ سی-130 یا ایم سی-130 طیارے نظر آ رہے ہیں، جو کمبیٹ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس سے ایرانی دعووں کو کچھ تقویت ملتی ہے، تاہم سنٹ کام نے ابھی تک کسی شوٹ ڈاؤن یا جاری ریسکیو آپریشن کی تصدیق نہیں کی۔

صورتحال کی سنگینی

امریکی پائلٹ کے جنگ کے دوران ایران کی سرزمین پر زندہ اور فرار میں ہونے کا امکان امریکا کے لیے داؤ کو انتہائی بلند کر دیتا ہے۔ ایران کے صوبائی گورنر نے کہا کہ جو بھی امریکی عملے کو گرفتار کرے یا ہلاک کرے اسے خصوصی اعزاز دیا جائے گا۔

خلاصہ

دعویٰصورتحال
امریکی طیارہ تباہ ہوا⚠️ تصاویر موجود، تصدیق نامکمل
پائلٹ گرفتار ہوا❌ امریکا نے تردید کی
ریسکیو آپریشن ناکام رہا⚠️ CSAR طیاروں کی تصاویر موجود
طیارہ ایف-35 تھا⚠️ ملبہ ایف-15ای سے مشابہت رکھتا ہے