جنگ بندی کے باوجود تیل و گیس کی قیمتیں معمول پر آنے میں کتنا وقت لگے گا؟

عالمی ماہرین اور یورپی یونین کا واضح انتباہ — صبر کریں، راتوں رات معجزہ نہیں ہوگا

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے بعد دنیا بھر میں سکھ کا سانس لیا گیا اور عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں فوری کمی بھی آئی، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ ریلیف دیرپا ہے؟ ماہرین کا جواب صاف ہے — ابھی صبر کی ضرورت ہے۔

بحران کتنا گہرا تھا؟

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں سے عالمی سطح کے تیل اور گیس کا تقریباً پانچواں حصہ منتقل ہوتا ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے فروری کے آخر میں ایران پر حملوں کے بعد ایران نے اس راستے کو مؤثر طور پر بند کر دیا تھا جس سے عالمی منڈیاں شدید دباؤ کا شکار ہو گئی تھیں۔

عرب ممالک کی مشترکہ برآمدات فروری میں 469 ملین بیرل سے کم ہو کر مارچ میں 263 ملین بیرل رہ گئیں، یعنی 206 ملین بیرل یا 44 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔

جنگ بندی کے فوری اثرات

جنگ بندی کا اعلان ہوتے ہی عالمی منڈیوں نے تیزی سے ردعمل دیا۔ جنگ بندی کی خبر کے بعد امریکی خام تیل کی قیمت میں 16 ڈالر 67 سینٹس کمی کے بعد 96 ڈالر 28 سینٹس فی بیرل ہو گئی، جبکہ قدرتی گیس کی قیمت بھی کم ہو کر 2 ڈالر 74 سینٹس تک آ گئی۔

تاہم قیمتیں اب بھی اس سطح سے زیادہ ہیں جہاں تنازع شروع ہونے سے قبل 28 فروری کو تیل تقریباً 70 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا تھا۔

کئی ماہ، بلکہ کئی سال لگ سکتے ہیں

توانائی کے شعبے سے منسلک ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عالمی تیل مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا بحران ہے — تیل کی ترسیل میں رکاوٹ، انفرااسٹرکچر پر حملے اور بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایل این جی اور دیگر توانائی ذرائع کی بحالی میں 3 سے 6 ماہ لگ سکتے ہیں۔

ماہرینِ اقتصادیات اور زرعی تجزیہ کاروں کے مطابق خوراک اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں پر اس بحران کے اثرات 2026ء اور 2027ء تک جاری رہ سکتے ہیں، اور جنگ کے دوران تباہ ہونے والی توانائی تنصیبات کی مکمل بحالی میں کئی سال لگنے کا امکان ہے۔

آبنائے ہرمز کی بحالی میں بھی وقت درکار

عرب میڈیا کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کھلنے کے باوجود صورتحال معمول پر آنے میں کئی ہفتے لگیں گے کیونکہ بڑے آئل ٹینکرز دنیا کے مختلف حصوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور انہیں خلیج واپس پہنچنے میں وقت درکار ہوگا۔ ذخیرہ گاہیں بھر جانے کے باعث کئی ممالک نے تیل کے کنویں بند کر دیے ہیں جنہیں دوبارہ چلانا مہنگا اور تکنیکی طور پر مشکل عمل ہے۔

یورپی یونین کا انتباہ

یورپی توانائی کمشنر ڈین یورگنسن کے مطابق اگرچہ سپلائی میں فوری کمی نہیں، مگر ڈیزل، جیٹ فیول اور عالمی گیس مارکیٹ پر دباؤ کے باعث بجلی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔

خلاصہ

جنگ بندی ایک اہم اور خوش آئند قدم ضرور ہے لیکن توانائی کا یہ بحران اتنا گہرا ہے کہ اسے ٹھیک ہونے میں مہینوں، بلکہ بعض شعبوں میں برسوں کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی، تباہ شدہ انفرااسٹرکچر کی تعمیرِ نو اور عالمی سپلائی چین کی درستگی — یہ سب ایک ساتھ وقت مانگتے ہیں۔ عوام کو ابھی مزید صبر کی ضرورت ہے۔