مظہر عباس کا تجزیہ — پاکستان کی تاریخی سفارتی کامیابی پر ایک جائزہ
سینئر صحافی و تجزیہ کار مظہر عباس نے پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابی پر اپنے تجزیے میں کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں پاکستان کے کردار نے دنیا پر یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان صرف پس پردہ سہولت کار نہیں بلکہ ایک فعال، براہِ راست اور قابلِ اعتماد ثالث کی حیثیت رکھتا ہے۔
سہولت کار اور ثالث میں فرق کیا ہے؟
یہ فرق صرف لفظی نہیں بلکہ سفارتی دنیا میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔ سہولت کار محض میز فراہم کرتا ہے جبکہ ثالث خود فریقین کے درمیان تجاویز پیش کرتا، سمجھوتے کی راہ ہموار کرتا اور دونوں کو ایک نقطے پر لانے میں براہِ راست کردار ادا کرتا ہے۔ سردار مسعود خان کے مطابق کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان پس پردہ سہولت کار نہیں بلکہ ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے، اور خلیجی ریاستیں پاکستان کو ایک ایسا ملک سمجھتی ہیں جو خطے میں توازن برقرار رکھتے ہوئے کشیدگی میں کمی لا سکتا ہے۔
پاکستان نے امن کی تجویز خود دی
وزیراعظم شہباز شریف نے خود یہ تجویز پیش کی کہ امریکا دو ہفتے کے لیے ایران کی شہری تنصیبات پر حملے ملتوی کر دے اور ایران آبنائے ہرمز کھول دے، جس پر ایران کی جانب سے مشروط طور پر مثبت ردعمل ملا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب پاکستان نے محض میزبان کا کردار چھوڑ کر خود ایک فعال امن ساز کی حیثیت اختیار کی۔
ماضی کی تاریخ بھی گواہ ہے
پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کے تحت متعدد عالمی تنازعات میں ثالث اور سہولت کار کا کردار ادا کر چکا ہے۔ سب سے نمایاں مثال 1971 میں امریکا اور چین کے درمیان خفیہ سفارت کاری ہے، اور حالیہ برسوں میں امریکا اور افغان طالبان کے درمیان 2020 کے دوحہ معاہدے میں بھی پاکستان نے اہم کردار ادا کیا۔
عالمی سطح پر اعتراف
بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہا جا رہا ہے اور امریکی و ایرانی حکام نے بھی جنگ بندی کے حصول میں پاکستان کے اقدامات کی تعریف کی ہے۔
اس پوری کارروائی کا مرکز اسلام آباد رہا، جو اس بات کی روشن دلیل ہے کہ پاکستان کا سفارتی اعتماد اب عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔
آگے کا راستہ
مظہر عباس کے مطابق یہ کامیابی پاکستان کے لیے ایک نئے سفارتی باب کا آغاز ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس اعتماد کو برقرار رکھا جائے اور پاکستان مستقبل میں بھی اسی غیر جانبداری اور پختگی کے ساتھ عالمی امن کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے۔ جب دنیا ایک بڑے تصادم اور ممکنہ تیسری جنگ عظیم کے دہانے پر کھڑی دکھائی دے رہی تھی، تو پاکستان نے نہ صرف اس بحران کو ٹالا بلکہ عالمی سطح پر اپنے لیے ایک نئی پہچان بھی بنائی۔





