امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد اسلام آباد پہنچ گیا

تاریخی امریکا-ایران مذاکرات — پاکستان عالمی سفارت کاری کا مرکز بن گیا

اسلام آباد کی تاریخ میں آج ایک نہایت اہم اور یادگار دن رقم ہو گیا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی امریکی وفد پاکستانی دارالحکومت پہنچ گیا ہے تاکہ پاکستان کی وساطت سے امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی مذاکرات کا آغاز کیا جا سکے۔

وفد میں کون کون شامل ہے؟

امریکی نائب صدر کے ہمراہ صدر ٹرمپ کے مشیر سٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی ایرانی وفد سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد آئے ہیں۔ امریکی وفد میں معاونت کے لیے شامل 23 ارکان پہلے ہی اسلام آباد پہنچ چکے ہیں، جن میں سیکیورٹی ماہرین اور ٹیم کے ارکان شامل ہیں۔

جے ڈی وینس کے دورے سے پہلے سازوسامان کے 14 جہاز پاکستان پہنچائے گئے، جن میں کمیونیکیشن کے آلات، گاڑیاں اور دیگر سامان شامل تھا، اور یہ تمام طیارے نور خان ایئر بیس پر لینڈ ہوئے۔

پاکستانی قیادت کا شاندار استقبال

امریکی نائب صدر کے نور خان ایئر بیس چکلالہ پہنچنے پر وزیراعظم شہباز شریف، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیرمقدم کیا۔

امریکی نائب صدر کو صدر ٹرمپ کے خصوصی نمائندے کی حیثیت حاصل ہے۔

ایرانی وفد بھی اسلام آباد میں

صرف امریکی وفد ہی نہیں، ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں۔

مذاکرات کا مقام اور سیکیورٹی انتظامات

مذاکرات اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں ہو رہے ہیں، جہاں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے جبکہ شہر کے اہم داخلی راستوں پر بھی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر دو روزہ تعطیلات کا اعلان کیا گیا ہے۔

مذاکرات کا مقصد اور امیدیں

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ اپنی مذاکراتی ٹیم کو اسلام آباد بھیج رہے ہیں اور انہوں نے ان بالمشافہ ملاقاتوں کے آغاز پر خوشی کا اظہار کیا۔

مذاکرات کا بنیادی مقصد جاری کشیدگی کو کم کرنا اور مستقل امن کی راہ ہموار کرنا ہے۔ ایران کی جانب سے پیش کیے گئے امن منصوبے میں خطے میں فوجی سرگرمیوں میں کمی، آبنائے ہرمز پر نگرانی اور غیر ملکی افواج کے انخلا جیسے نکات شامل ہیں۔

مختصراً، اسلام آباد میں جاری یہ مذاکرات پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ دنیا کی دو بڑی طاقتوں کا پاکستان کی میزبانی میں آمنا سامنا بیٹھنا اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان آج عالمی امن کے فروغ میں ایک ناگزیر کردار ادا کر رہا ہے۔