پٹرول میں کم اضافہ، ڈیزل میں زیادہ کیوں؟ شاہد خاقان عباسی کے بڑے انکشافات

shahid-khaqan-abbasi

عوام پاکستان کے سربراہ نے حکومت کی پیٹرولیم پالیسی پر کڑی تنقید کی

ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے بعد سابق وزیراعظم اور عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ شاہد خاقان عباسی نے اسلام آباد میں ایک اہم پریس کانفرنس کی، جس میں انہوں نے حکومت کی پیٹرولیم پالیسی کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے کئی چونکا دینے والے انکشافات کیے۔

پٹرول اور ڈیزل میں فرق کیوں؟

شاہد خاقان عباسی نے انکشاف کیا کہ ایران اور امریکا کی جنگ شروع ہوتے ہی حکومت نے پیٹرول کی قیمت بڑھائی، جبکہ لیوی ٹیکس ڈیزل سے پیٹرول پر منتقل کر دیا گیا۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ وزیراعظم نے 80 روپے ٹیکس میں کمی کا اعلان کیا، مگر یہ واضح نہیں کیا کہ یہ رقم کہاں سے آئے گی، کیونکہ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ یہ بوجھ بالآخر عوام پر ہی پڑتا ہے۔

جنگ شروع ہونے کے بعد سے پیٹرول کی قیمت 266 روپے 17 پیسے سے بڑھ کر 378 روپے فی لیٹر (جزوی کمی کے بعد) ہو گئی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 280 روپے 86 پیسے سے اچھل کر 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی۔

موٹرسائیکل سواروں پر ناانصافی

شاہد خاقان نے اہم اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں تقریباً 2 کروڑ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہیں جو سالانہ تقریباً 6 ارب ڈالر کا ایندھن استعمال کرتی ہیں۔ اوسطاً ایک موٹرسائیکل سوار ماہانہ 7 ہزار روپے خرچ کرتا ہے، جس میں سے تقریباً 40 فیصد صرف ٹیکس ہوتا ہے۔

انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا: “آپ کسی اسمبلی ممبر یا تاجر سے ماہانہ 3 ہزار روپے ٹیکس نہیں لے سکتے، جبکہ ہر موٹرسائیکل سوار پٹرول پر ماہانہ 3 ہزار روپے ٹیکس ادا کر رہا ہے۔”

حکومتی پالیسی پر کڑی تنقید

شاہد خاقان عباسی نے واضح طور پر کہا کہ جنگ کو 5 ہفتے گزر چکے ہیں لیکن حکومت پٹرول کی صورتحال کو سنبھالنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے جنگ شروع ہوتے ہی بغیر کسی جواز کے قیمتیں بڑھا دیں اور مفت سفر، پیسے بانٹنا اور قرض لے کر سستا تیل دینا کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔

ڈی ریگولیشن کا مطالبہ

شاہد خاقان نے اپنی پریس کانفرنس میں دو بڑے مطالبات پیش کیے: پہلا یہ کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کیا جائے کیونکہ حکومت یہ معاملہ سنبھالنے کے قابل نہیں، اور دوسرا یہ کہ الیکٹرک گاڑیوں خصوصاً الیکٹرک موٹرسائیکلوں کو فروغ دیا جائے۔

انہوں نے اپنے دلائل میں مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر پیٹرولیم ڈی ریگولیٹ کر دیا جائے تو اس سے 6 ارب ڈالر کا بوجھ کم ہونا شروع ہو جائے گا، جیسا کہ چین نے کر کے دکھایا ہے۔

خلاصہ

شاہد خاقان عباسی کی پریس کانفرنس نے یہ واضح کر دیا کہ پیٹرول میں نسبتاً کم اور ڈیزل میں زیادہ اضافے کے پیچھے ٹیکس کی منتقلی اور غیر مستقل پالیسی کا ہاتھ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول اور ڈیزل کو خریداری قیمت سے کم پر فروخت نہیں کیا جا سکتا اور قیمتوں کا تعین انتظامی فیصلوں کی بجائے مارکیٹ کی حقیقتوں کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ عوام اب حکومت سے نہ صرف فوری ریلیف بلکہ ایک واضح، مستقل اور منصفانہ توانائی پالیسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔