منگل کی ڈیڈلائن حتمی، ایران کے تیل پر قبضہ کرلیں گے ڈونلڈ ٹرمپ کی خطرناک دھمکی

trump-iran

آبنائے ہرمز کھولنے کا الٹی میٹم، دنیا سانس روکے بیٹھی ہے

امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ ایک انتہائی نازک اور خطرناک موڑ پر آ گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو منگل 7 اپریل 2026 شام 8 بجے (امریکی مشرقی وقت) کی حتمی ڈیڈلائن دیتے ہوئے آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ کیا ہے، ورنہ سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی دی ہے۔

ٹرمپ کا اشتعال انگیز اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک تہلکہ خیز پیغام لکھا: “منگل پاور پلانٹ ڈے اور برج ڈے ہوگا، سب ایک ساتھ! آبنائے ہرمز کھولو یا جہنم میں رہو — بس دیکھتے رہو!” انہوں نے بعد میں وضاحت کی کہ ڈیڈلائن منگل شام 8 بجے مشرقی وقت ہے۔

وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے مزید کہا: “پورے ملک کو ایک ہی رات میں تباہ کیا جا سکتا ہے، اور وہ رات شاید کل رات ہو۔”

تیل پر قبضے کی دھمکی

فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا: “اگر انہوں نے جلدی معاہدہ نہیں کیا تو میں سب کچھ اڑا کر تیل پر قبضہ کرنے پر غور کر رہا ہوں۔” جب ان سے ایران کا تیل ضبط کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: “فاتح کو مالِ غنیمت ملتا ہے — میں پہلے ایک تاجر ہوں۔”

ڈیڈلائن حتمی ہے

ٹرمپ نے صاف کہا کہ منگل کی ڈیڈلائن حتمی ہے اور وہ اسے مزید آگے بڑھانا انتہائی ناممکن سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا: “انہیں کافی وقت دیا جا چکا ہے۔” ایران کو خبردار کیا گیا کہ اگر آبنائے ہرمز نہ کھولی تو بجلی گھر، پُل اور اہم بنیادی ڈھانچہ نشانہ بنایا جائے گا۔

ایران کا جواب

ایران کے صدارتی ترجمان سید مہدی طباطبائی نے ٹرمپ کی دھمکیوں کو “مایوسی اور غصے کا ردعمل” قرار دیتے ہوئے کہا: “آبنائے ہرمز تب کھلے گا جب مسلط کردہ جنگ کے تمام نقصانات کا ازالہ ہو جائے گا۔” ایران کی وزارت خارجہ نے کہا: “گفت و شنید الٹی میٹم، جرائم اور دھمکیوں کے ساتھ ہرگز ممکن نہیں۔”

جنگ بندی کی کوشش ناکام

پاکستان، مصر اور ترکی کی ثالثی سے 45 روزہ جنگ بندی کی تجویز پیش کی گئی، جس پر ٹرمپ نے کہا: “یہ ایک اہم قدم ہے، لیکن کافی نہیں۔” ایران نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔

عالمی معیشت پر اثرات

آبنائے ہرمز کی بندش سے خام تیل، جہازی ایندھن، ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ بین الاقوامی برینٹ کروڈ 110 ڈالر فی بیرل سے اوپر ہے، جبکہ امریکی ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 112 سے 114 ڈالر فی بیرل کے درمیان ہے۔ امن سے قبل عالمی تیل کی 20 فیصد سپلائی اسی آبنائے سے گزرتی تھی۔

خلاصہ

دنیا اس وقت ایک انتہائی فیصلہ کن لمحے میں ہے۔ ٹرمپ کی ڈیڈلائن، ایران کی ضداور عالمی معیشت پر منڈلاتا خطرہ — یہ سب مل کر ایک ایسے嵐 کا پیش خیمہ ہیں جو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو متاثر کر سکتا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا کے تمام ممالک کی نگاہیں منگل کی شب پر لگی ہیں۔