پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں سے متعلق اہم صورتحال

ریکارڈ اضافے سے ممکنہ ریلیف تک — ایک ہفتے میں کیا کیا ہوا؟

پاکستان میں پیٹرول کی قیمتیں رواں ہفتے تاریخ کے ہنگامہ خیز ترین مراحل سے گزریں۔ وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے وزیرِ خزانہ کے ہمراہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے 23 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 458 روپے 40 پیسے فی لیٹر ہو گئی، جبکہ ڈیزل 184 روپے 49 پیسے مہنگا ہو کر 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر تک جا پہنچا۔

تاہم یہ صورتحال زیادہ دیر برقرار نہ رہی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے عوامی دباؤ کے بعد پیٹرول پر عائد لیوی میں 80 روپے کی کمی کا اعلان کیا، جس کے بعد پیٹرول کی قیمت 378 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی۔

قیمتوں میں اضافے کی وجوہات

وزیرِ پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ عالمی جنگ نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور توانائی کی قیمتوں میں بھونچال آیا ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز کی مکمل بندش نے معاملات کو پیچیدہ بنا دیا اور 85 ممالک نے قیمتیں بڑھائی ہیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی اصل وجہ صرف عالمی خام تیل کی قیمت نہیں بلکہ حکومت کی عائد کردہ لیوی اور ٹیکسز ہیں — پیٹرول پر تقریباً 84 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 76 روپے فی لیٹر لیوی عائد ہے۔

عوام کے لیے مشکلات اور ذخیرہ اندوزی

قیمتوں میں اضافے کے بعد ایک اور مسئلہ سامنے آیا۔ پمپ مالکان قیمتیں مزید بڑھنے کے انتظار میں اسٹاک چھپانے لگے، جس سے پمپس پر ایندھن کی مصنوعی قلت پیدا ہوئی، حالانکہ سرکاری رپورٹ کے مطابق ملک میں ڈیزل کا 25 دن کا ذخیرہ موجود تھا۔

صوبائی حکومتوں کا ریلیف

عوامی پریشانی کو دیکھتے ہوئے صوبائی حکومتیں بھی میدان میں آئیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے تمام شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ مفت کرنے کا اعلان کیا اور کاشتکاروں کو ڈیزل پر 100 روپے فی ایکڑ سبسڈی دی گئی، جبکہ سندھ کی جانب سے موٹرسائیکل مالکان کو 2000 روپے ماہانہ نقد امداد کا اعلان ہوا۔

آگے کیا ہوگا؟

امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 15 سے 20 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے آ چکی ہیں۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30 سے 60 روپے فی لیٹر تک کمی کا امکان ہے، تاہم یہ ریلیف فوری نہیں بلکہ ایک سے دو ہفتوں کے وقفے سے سامنے آ سکتا ہے۔

مختصر یہ کہ پیٹرول کا بحران ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، لیکن عالمی صورتحال بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ امید کی کرن ضرور نظر آ رہی ہے۔