گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ایندھن کے بحران نے پاکستانی عوام کو بری طرح متاثر کیا، لیکن اب ایل پی جی (مائع پٹرولیم گیس) کے حوالے سے ایک خوشخبری سامنے آئی ہے۔ ایران سے گیس کی فراہمی بحال ہونے کے بعد ملک بھر میں قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
قیمت کیوں گری؟
ایران سے مائع پٹرولیم گیس کی فراہمی بحال ہونے کے بعد پاکستان بھر میں ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی شروع ہو گئی ہے، جس سے صارفین کو بڑی راحت ملی ہے۔
وفاقی تجارتی و صنعتی چیمبرز کی ایل پی جی اسٹینڈنگ کمیٹی کے کوآرڈینیٹر علی حیدر کے مطابق ایران سے روزانہ تقریباً 6,000 ٹن ایل پی جی کی فراہمی اب معمول کے مطابق بحال ہو گئی ہے، جس سے مارکیٹ میں ایل پی جی کی دستیابی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
اس کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ پاکستان اپنی ایل پی جی کی طلب پوری کرنے کے لیے زیادہ تر درآمدات پر انحصار کرتا ہے، ملک کی تقریباً 65 فیصد ایل پی جی کی کھپت بیرون ملک سے آتی ہے، جس میں تقریباً 90 فیصد ایران سے حاصل ہوتی ہے۔
فی کلو نئی قیمت اور مزید ریلیف کا امکان
علی حیدر نے کہا کہ ایل پی جی کی قیمتیں پہلے ہی فی کلو 20 روپے کم ہو گئی ہیں اور توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں فراہمی کے مستحکم ہونے کے ساتھ قیمت مزید 50 روپے فی کلو تک کم ہو سکتی ہے۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ایل پی جی کی سرکاری قیمت 304 روپے فی کلو مقرر کی تھی، تاہم فراہمی میں رکاوٹ کے دوران کچھ مارکیٹ پلیئرز نے اسے 440 سے 450 روپے فی کلو تک بڑھا دیا تھا۔ یعنی عوام ایک وقت میں سرکاری نرخ سے تقریباً 150 روپے فی کلو زیادہ ادا کر رہے تھے۔
پیٹرول اور ڈیزل میں بھی بڑی کمی متوقع
ایل پی جی کے ساتھ ساتھ دیگر پیٹرولیم مصنوعات میں بھی ریلیف کی امید ہے۔ جنگ بندی کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں 13 سے 15 فیصد گر گئیں اور برطانوی خام تیل برینٹ کی قیمت 112 ڈالر سے کم ہو کر 94 ڈالر 69 سینٹ فی بیرل پر آ گئی۔ ذرائع پیٹرولیم انڈسٹری کے مطابق پیٹرول 55 روپے فی لیٹر تک سستا ہو سکتا ہے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 95 سے 100 روپے کمی ہو سکتی ہے۔
عوام کے لیے کیا مطلب ہے؟
ایل پی جی گھریلو صارفین کے لیے کھانا پکانے کا سب سے عام ذریعہ ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں قدرتی گیس کی فراہمی نہیں ہے۔ قیمتوں میں اس کمی سے لاکھوں گھرانوں کو براہِ راست ریلیف ملے گا اور مہنگائی کا بوجھ کسی حد تک کم ہوگا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک فراہمی مکمل طور پر مستحکم نہ ہو جائے، صارفین کو احتیاط برتنی چاہیے اور سرکاری نرخوں سے زیادہ ادائیگی کی صورت میں متعلقہ حکام کو اطلاع دینی چاہیے۔





