فخر زمان کے متعلق اہم بیان سامنے آگیا

Farrukh Zaman

بال ٹیمپرنگ کیس میں اپیل مسترد، دو میچز کی پابندی برقرار

پاکستان سپر لیگ 2026 کا یہ ایڈیشن میدان سے زیادہ تنازعات کی وجہ سے خبروں میں ہے۔ لاہور قلندرز کے اوپنر فخر زمان بھی ان دنوں بال ٹیمپرنگ کے ایک سنگین الزام کے باعث مشکل میں پھنسے ہوئے ہیں اور اب ان کی اپیل کا فیصلہ بھی ان کے خلاف آ گیا۔

واقعہ کیا تھا؟

یہ تنازعہ لاہور قلندرز اور کراچی کنگز کے درمیان میچ کے دوران پیش آیا۔ آخری اوور سے پہلے امپائرز کو گیند کی حالت پر شک ہوا۔ گیند حارث رؤف، شاہین آفریدی اور فخر زمان کے درمیان گھومتی رہی تھی۔ فخر کے گیند واپس کرنے کے فوری بعد امپائر نے مداخلت کرتے ہوئے گیند تبدیل کر دی، جس سے ٹیمپرنگ کے شبہات پیدا ہوئے۔

پی سی بی کا فیصلہ اور فخر کا جواب

فخر زمان کو پی ایس ایل کے پلیئنگ کنڈیشنز کے آرٹیکل 41.3 کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا جو میچ میں ناجائز فائدہ اٹھانے کے لیے گیند کی حالت تبدیل کرنے سے متعلق ہے۔ میچ ریفری روشن ماہانامہ نے لیول تھری جرم کے تحت زیادہ سے زیادہ سزا کے طور پر دو میچز کی پابندی عائد کی۔

فخر زمان نے اپنی اپیل میں دلیل دی کہ بال ٹیمپرنگ کے الزامات کی تائید میں کوئی حتمی ثبوت موجود نہیں ہے، تاہم پینل نے دستیاب شواہد کا جائزہ لینے کے بعد میچ ریفری کے اصل فیصلے کو برقرار رکھا۔

اپیل مسترد، پابندی برقرار

فخر کی اپیل پروفیسر جاوید ملک، ڈاکٹر ممریز نقشبند اور سید علی نقی پر مشتمل پی ایس ایل ٹیکنیکل کمیٹی نے سنی۔ تمام شواہد کا نئے سرے سے جائزہ لینے اور متعلقہ فریقین کے بیانات سننے کے بعد کمیٹی نے اپیل مسترد کرتے ہوئے دو میچز کی پابندی برقرار رکھی۔ پی سی بی نے واضح کیا کہ پی ایس ایل ٹیکنیکل کمیٹی کا فیصلہ حتمی اور تمام فریقین پر لازم الاتباع ہے۔

فخر کے کن میچز متاثر ہوں گے؟

اس پابندی کے نتیجے میں فخر زمان لاہور قلندرز کی جانب سے 3 اپریل کو ملتان سلطانز اور 9 اپریل کو اسلام آباد یونائٹڈ کے خلاف میچز نہیں کھیل سکیں گے۔

لاہور قلندرز کو بھی جرمانہ

فخر پر دو میچ کی پابندی کے علاوہ امپائرز نے ٹیم کے خلاف بھی کارروائی کی۔ لاہور قلندرز کو پانچ اضافی رنز کی سزا دی گئی جس کے باعث کراچی کنگز کو آخری اوور میں صرف 9 رنز درکار رہ گئے۔

خلاصہ

فخر زمان پاکستان کے ممتاز اوپننگ بیٹر ہیں اور پی ایس ایل میں لاہور قلندرز کی ریڑھ کی ہڈی تصور کیے جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو زیادہ بہتر انداز میں سنبھالا جا سکتا تھا اور پی سی بی کو اپنے کھلاڑیوں کے معاملات میں زیادہ احتیاط اور انصاف کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ بہرحال فیصلہ ہو چکا ہے اور فخر زمان کو اب اپنی غلطی سے سبق سیکھتے ہوئے مستقبل میں مزید محتاط رہنا ہوگا۔