توانائی کی بچت کے لیے حکومت کا بڑا اقدام، 7 اپریل سے نافذ العمل
پاکستان میں پیٹرول اور توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے حکومت نے ایک اہم اور دور رس فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے تمام دکانوں، مارکیٹس اور شاپنگ مالز کو رات 8 بجے بند کرنے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
فیصلے کا پس منظر
یہ فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پیٹرولیم مصنوعات سے متعلق ہونے والے اہم اجلاس میں کیا گیا، جس میں ملک بھر میں بازار، مارکیٹیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اس اقدام کا بنیادی مقصد توانائی کے استعمال میں کمی اور نظام کو زیادہ مؤثر بنانا قرار دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کی اہم تفصیلات
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے مطابق یہ احکامات 7 اپریل 2026 سے تاحکم ثانی نافذ العمل رہیں گے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ پورے ہفتے کے دوران کاروباری سرگرمیاں رات 8 بجے تک محدود رہیں گی، جبکہ صرف میڈیکل اسٹورز، اسپتالوں اور لیبارٹریز کو اس پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
پیٹرول پمپس اور سی این جی اسٹیشنز پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوگی، جبکہ تندور، بیکریاں اور دودھ کی دکانیں بھی اس حکم سے مستثنیٰ قرار دی گئی ہیں۔ ہوٹلز، ریسٹورنٹس اور فوڈ آؤٹ لیٹس رات 10 بجے بند ہوں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری سروسز جاری رہیں گی۔
شادی تقریبات پر بھی پابندی
شادی ہالز، مارکیز اور نجی پراپرٹیز پر منعقد ہونے والی شادی بیاہ کی تقریبات پر بھی رات 10 بجے کے بعد پابندی عائد کر دی گئی ہے، اور گھروں اور فارم ہاؤسز میں ہونے والی شادی تقریبات بھی مقررہ وقت تک مکمل کرنا لازمی ہوگا۔
کس صوبے میں کیا صورتحال؟
پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں ان فیصلوں پر عملدرآمد ہوگا، جبکہ خیبر پختونخوا کے ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں بازار اور شاپنگ مالز رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت ہوگی۔
صوبہ سندھ میں کاروباری اوقات کار کے حوالے سے کاروباری برادری سے مشاورت کا عمل ابھی جاری ہے اور حتمی فیصلہ مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔
تاجر برادری کا ردعمل
یہ فیصلہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث پیدا ہونے والے توانائی بحران کے تناظر میں کیا گیا ہے جس سے پاکستان میں پیٹرول اور بجلی کے اخراجات میں بے تحاشا اضافہ ہو چکا ہے۔ تاجر برادری کی جانب سے اس فیصلے پر ملے جلے ردعمل سامنے آئے ہیں، کچھ حلقوں نے اسے کاروباری نقصان قرار دیا جبکہ بعض نے قومی مفاد میں اسے ناگزیر قرار دیا۔
خلاصہ
حکومت کا یہ فیصلہ توانائی کی بچت کی سمت ایک عملی قدم ہے، تاہم اس کے نتائج اور عملدرآمد کا معاملہ آنے والے دنوں میں واضح ہوگا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اس پالیسی کو محض اعلان تک محدود نہ رکھے بلکہ اس پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائے اور ساتھ ہی تاجر برادری کے جائز مفادات کا بھی خیال رکھے۔





