تاریخ کا مہنگا ترین پیٹرول، عام آدمی کی کمر ٹوٹ گئی
پاکستان میں مہنگائی کا ایک نیا اور شدید طوفان آ چکا ہے۔ 2 اپریل 2026 کو وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک تاریخی اضافے کا اعلان کیا، جس نے عام آدمی کی زندگی یکسر مشکل کر دی ہے۔
نئے نرخ کیا ہیں؟
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اعلان کیا کہ پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے 23 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 458 روپے 40 پیسے فی لیٹر مقرر ہوئی۔ ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے 49 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد ڈیزل کا نیا نرخ 520 روپے 35 پیسے مقرر کر دیا گیا۔
یہ پاکستان کی تاریخ میں پیٹرول کی سب سے بلند قیمت ہے، جو 3 اپریل 2026 کو 458.40 روپے فی لیٹر مقرر ہوئی۔
حکومت کا موقف
وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ جنگ کی وجہ سے توانائی قیمتوں میں بھونچال آیا ہوا ہے اور خام تیل کی عالمی منڈی میں قیمت ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے، ڈیزل کی عالمی منڈی میں قیمت 250 ڈالر فی بیرل سے بھی بڑھ چکی ہے۔ حکومت نے بھرپور کوشش کی کہ عوام کو تحفظ دیا جا سکے، تاہم مجبوراً یہ فیصلہ کرنا پڑا۔
حکومت نے عوام کو کچھ ریلیف دینے کے لیے موٹر سائیکل کے لیے ہر ماہ 20 لیٹر پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر سبسڈی، انٹر سٹی پبلک ٹرانسپورٹ کو ڈیزل پر فی لیٹر 100 روپے سبسڈی اور ٹرک و گڈز ٹرانسپورٹ کو فیول پر 70 ہزار روپے ماہانہ سبسڈی دینے کا اعلان بھی کیا۔
کرایوں پر فوری اثر
پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہوتے ہی ملک بھر میں ٹرانسپورٹ کرایوں میں بھی فوری اضافہ دیکھا گیا۔
لاہور میں پبلک ٹرانسپورٹرز نے ازخود کرایوں میں نمایاں اضافہ کر دیا۔ لاہور سے اسلام آباد کا کرایہ 3000 سے بڑھا کر 4000 روپے، پشاور کا کرایہ 3500 سے بڑھا کر 4600 روپے کر دیا گیا۔ فیصل آباد کا کرایہ 1350 سے بڑھ کر 2350 روپے، کراچی کا کرایہ 8600 سے بڑھ کر 12000 روپے اور حیدرآباد کا کرایہ 9200 سے بڑھ کر 13000 روپے ہو گیا۔
اندرونِ شہر بھی حالات مختلف نہ رہے۔ آن لائن ٹیکسی ڈرائیوروں نے بتایا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بعد کرائے تقریباً 10 فیصد بڑھ گئے ہیں۔ کم سے کم فاصلے میں 100 اور زیادہ فاصلے میں 250 روپے سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔
عام شہری کا حال
شہری شکوہ کر رہے ہیں کہ پیٹرول تو مہنگا ہو گیا لیکن تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہوا۔ ایک نجی ادارے میں کام کرنے والے ملازم نے بتایا کہ دو طرفہ کرائے کی مد میں پہلے 600 روپے خرچ ہوتے تھے، اب یہی خرچہ بڑھ کر 800 سے 900 روپے ہو گیا ہے۔
پالیسی سازوں کو خدشہ ہے کہ ڈیزل کی قیمت میں اضافے سے مال برداری کے اخراجات بڑھیں گے، جس سے براہِ راست اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی کی ایک نئی لہر آ سکتی ہے۔
خلاصہ
مشرق وسطیٰ کی جنگ نے پاکستانی عوام کو بالواسطہ طور پر شدید متاثر کیا ہے۔ پیٹرول کی تاریخ کی بلند ترین قیمت، ڈیزل کی ہوشربا مہنگائی اور اس کے نتیجے میں بڑھتے کرائے، غریب اور متوسط طبقے کی زندگی کو اور بھی دشوار بنا رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت محض اعلانات تک محدود نہ رہے بلکہ سبسڈی کا فائدہ واقعی ضرورت مند طبقے تک پہنچے۔




