اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات پر قانونی مشاورت، 190 ملین پاونڈ کیس کی اپیل اور صحت کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال
📅 8-9 اپریل 2026📍 اڈیالہ جیل، راولپنڈی⏱ 2 منٹ مطالعہ
راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں بدھ کو ایک اہم ملاقات ہوئی جب بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات پر جیل پہنچ کر تقریباً ایک گھنٹہ قید سابق وزیراعظم سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد بیرسٹر سلمان صفدر بغیر کسی میڈیا گفتگو کے واپس روانہ ہوگئے۔
بیرسٹر سلمان صفدر عدالتی احکامات ہمراہ لے کر گیٹ نمبر 5 سے اڈیالہ جیل میں داخل ہوئے۔ ملاقات کا بنیادی مقصد 190 ملین پاونڈ اسکینڈل (القادر ٹرسٹ کیس) کی اپیلوں پر قانونی مشاورت اور دلائل کی تیاری تھی۔
ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران عمران خان کی صحت، جاری قانونی مقدمات اور سیاسی صورتحال سمیت کئی اہم امور پر گفتگو ہوئی۔ عمران خان نے اپنی متاثرہ آنکھ میں پہلے کی نسبت بہتری آنے کی بات کی، تاہم بعض رپورٹوں کے مطابق آنکھوں کی تکلیف ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی اور مزید علاج کی ضرورت باقی ہے۔
ملاقات کے اہم نکات
190 ملین پاونڈ کیس کی سزا کے خلاف دائر اپیل پر قانونی مشاورت مکمل کر لی گئی
ذرائع کے مطابق عمران خان نے پارٹی کو ایک اہم جلسہ منسوخ کرنے کا پیغام بھجوایا
بانی پی ٹی آئی کو پاکستان کی عالمی سطح پر جاری سفارتی کوششوں سے آگاہ رکھا گیا
عمران خان کا مجموعی حوصلہ بلند اور طبیعت نسبتاً بہتر بتائی گئی
ملاقات کے بعد بیرسٹر سلمان صفدر نے میڈیا سے کوئی بات نہیں کی
یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل بینچ نے 190 ملین پاونڈ کیس میں درخواست منظور کرتے ہوئے جیل حکام کو ہدایت کی تھی کہ بیرسٹر سلمان صفدر کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائی جائے تاکہ وہ مقدمے کے دلائل کی تیاری کر سکیں۔ عدالت نے یہ بھی اشارہ دیا کہ مرکزی اپیل پر سات روز کے اندر فیصلہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
“خان صاحب کی مجموعی صحت تسلی بخش ہے، وہ بلند حوصلے میں اور پہلے کی طرح غیر معمولی طور پر مضبوط نظر آئے۔” — بیرسٹر سلمان صفدر (ایک سابق ملاقات کے بعد)
سیاسی حلقوں میں اس ملاقات کو اس لیے بھی اہمیت دی جا رہی ہے کہ پاکستان ان دنوں عالمی سطح پر امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے اور ذرائع کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو ان اہم پیش رفتوں سے آگاہ رکھا گیا۔ ملاقات کے بعد میڈیا خاموشی نے سیاسی مبصرین میں مزید تجسس پیدا کر دیا ہے۔





