واشنگٹن: صدر ٹرمپ نے خلیج میں جاری اہم امریکی فوجی آپریشن “پروجیکٹ فریڈم” کو عارضی طور پر روکنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد عالمی سطح پر بڑی بحث شروع ہو گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ معاہدے کی کوششیں جاری ہیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد سفارتی عمل کو موقع دینا اور جنگ بندی کو حتمی شکل دینا ہے۔
“پروجیکٹ فریڈم” دراصل ایک امریکی فوجی مشن تھا جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں پھنسے تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنا تھا، کیونکہ ایران کی جانب سے اس اہم بحری راستے پر پابندیوں اور حملوں کے باعث عالمی تجارت شدید متاثر ہوئی تھی۔
رپورٹس کے مطابق اس آپریشن کے تحت سینکڑوں جہازوں کو نکالنے کی کوشش کی جا رہی تھی، تاہم ہزاروں ملاح اب بھی خطے میں پھنسے ہوئے ہیں اور عالمی تیل کی ترسیل پر دباؤ برقرار ہے۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگرچہ “پروجیکٹ فریڈم” عارضی طور پر روک دیا گیا ہے، لیکن ایران کے خلاف دیگر اقدامات اور بحری پابندیاں بدستور برقرار رہیں گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک کوشش ہو سکتا ہے، تاہم صورتحال اب بھی انتہائی حساس ہے اور آنے والے دنوں میں اس کے عالمی سیاست اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔





