عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کے باعث پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں سے متعلق بڑی پیشگوئیاں سامنے آ رہی ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 120 سے 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے، جس سے مقامی سطح پر مزید مہنگائی کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 400 روپے فی لیٹر سے بھی تجاوز کر سکتی ہے، جبکہ کچھ اندازوں کے مطابق یہ 440 روپے تک بھی جا سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس اضافے کی بڑی وجوہات مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، تیل کی ترسیل میں رکاوٹیں اور عالمی مارکیٹ میں سپلائی کی کمی ہیں۔ بعض بین الاقوامی ادارے خبردار کر رہے ہیں کہ اگر صورتحال مزید بگڑی تو تیل 150 ڈالر فی بیرل تک بھی جا سکتا ہے، جس کا براہِ راست اثر پاکستان جیسے درآمدی ممالک پر پڑے گا۔
دوسری جانب کچھ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر عالمی حالات بہتر ہوئے اور سپلائی بحال ہو گئی تو مستقبل میں قیمتوں میں کمی بھی ممکن ہے، لیکن فی الحال قریبی دنوں میں عوام کو مزید مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 دن بعد قیمتوں کا جائزہ لیتی ہے، اس لیے آئندہ اعلان عوام کے لیے انتہائی اہم ہوگا۔





