لاہور: پنجاب میں ایک رکنِ پنجاب اسمبلی پر حملے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد سیاسی اور عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق واقعے میں فائرنگ اور پرتشدد کارروائی کے نتیجے میں ہلاکتوں کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق حملے کے فوراً بعد پولیس اور ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی گئیں۔ زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے جبکہ حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی نوعیت اور محرکات جاننے کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ سیکیورٹی اداروں نے علاقے میں الرٹ جاری کرتے ہوئے حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں۔
سیاسی رہنماؤں نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ملوث عناصر کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ عوامی حلقوں میں بھی اس افسوسناک واقعے پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔





