غمزدہ خاندانوں کے لیے وقار اور سہولت — مریم نواز کا تاریخی اقدام
پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک ایسی سروس کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے جو انسانی ہمدردی اور سماجی ذمہ داری کی روشن مثال ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پاکستان کی پہلی سرکاری “میت منتقلی سروس” کا آغاز کر دیا، جو صوبے کے لیے نیا اعزاز ہے۔
کیا ہے یہ سروس اور کیسے کام کرے گی؟
میت منتقلی سروس کے ذریعے پہلے فیز میں لاہور، ملتان اور راولپنڈی کے سرکاری اسپتالوں سے تکریم کے ساتھ میت بلا معاوضہ گھر منتقل کی جائے گی۔
مرحوم کے اہل خانہ ایمرجنسی ہیلپ لائن ریسکیو 1122 پر کال کر کے یا متعلقہ ہسپتال کے کاؤنٹر سے رابطہ کر کے مفت وین سروس حاصل کر سکیں گے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ہر سرکاری اسپتال میں میت منتقلی سروس کے لیے خصوصی ڈیسک بنایا جائے گا اور سرکاری اسپتال میں 24/7 تربیت یافتہ یونیفارم میں ملبوس ڈرائیور موجود ہوں گے۔
پورے پنجاب تک پھیلاؤ کا منصوبہ
رواں سال جون تک میت منتقلی سروس کا دائرہ کار بتدریج پنجاب کی ہر تحصیل تک شروع کیا جائے گا اور ہر تحصیل میں “Deceased Care Service” کے لیے مخصوص ایمبولینس مہیا کی جائے گی۔
میت منتقلی سروس کو اسمارٹ مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے مانیٹر کیا جائے گا، جبکہ ضرورت پڑنے پر میت کو دوسرے شہر منتقل کرنے کی سہولت بھی بلا معاوضہ فراہم کی جائے گی۔
پرائیویٹ سروسز پر بھی لگام
اس سے قبل اسپتالوں میں میت کی منتقلی کے لیے نجی ٹرانسپورٹرز کی اجارہ داری تھی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ اسپتالوں میں مریض کی وفات کی صورت میں پرائیویٹ ٹرانسپورٹر کا منہ مانگے کرایہ وصول کرنا افسوسناک ہے۔
اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ پرائیویٹ ایمبولینس سروسز کو ریگولیٹ کیا جائے گا اور ان کے ریٹ مقرر کرنے کی تجویز کا جائزہ لیا جائے گا۔
انسانی پہلو — غم کی گھڑی میں ریاست ساتھ ہے
مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ کسی بھی پیارے کے بچھڑنے کے دکھ کی گھڑی میں ہم ساتھ ہیں اور ساتھ رہیں گے۔ انہوں نے ریسکیو اہلکاروں سے اپیل کی کہ اگر کوئی میت منتقلی پر پیسے دے تو ہرگز نہ لیں اور میت منتقلی سروس اہلکاروں کو رضائے الٰہی کے لیے عوامی خدمت کے جذبے کے تحت کام کرنا چاہیے۔
یہ سروس نہ صرف غمزدہ خاندانوں کو مالی استحصال سے بچائے گی بلکہ اس بات کا اعلان بھی ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کے ساتھ زندگی کے آخری لمحوں میں بھی کھڑی ہے — یہ ایک ایسا قدم ہے جسے پاکستان کی فلاحی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔





