آئی ایم ایف سے قسط کی منظوری کیسے ممکن ہوئی؟ نائب وزیراعظم پھٹ پڑے، جانیے حقیقت کیا ہے

ishaq-dar

اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے قرض کی نئی قسط کی منظوری کے معاملے پر سیاسی اور معاشی حلقوں میں بحث جاری ہے، جبکہ اس حوالے سے نائب وزیراعظم کا سخت ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نائب وزیراعظم نے بعض الزامات اور افواہوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے مذاکرات مکمل طور پر قومی مفاد اور معاشی استحکام کو مدنظر رکھ کر کیے گئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے مشکل معاشی حالات میں ذمہ دارانہ فیصلے کیے ہیں۔

حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی قسط کی منظوری مختلف معاشی اصلاحات، مالی نظم و ضبط اور طے شدہ شرائط پر عملدرآمد کے بعد ممکن ہوئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر اور معاشی اعتماد میں بہتری آ سکتی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بیانات کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے، جبکہ عوام کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ اس مالی معاونت کے اثرات معیشت پر کس حد تک مثبت ثابت ہوتے ہیں۔